آوارہ کتوں کا بحران: حکومتی بے حسی کب ختم ہوگی؟

زراعت ٹائمز اداریہ

کشمیر میں آوارہ کتوں کا مسئلہ اب محض ایک بلدیاتی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین انسانی، سماجی اور صحتِ عامہ کا بحران بن چکا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بڑھتی ہوئی ایمرجنسی کے سامنے بے بس، غیر سنجیدہ اور غیر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وادی کے گلی کوچے، محلّے، بازار اور یہاں تک کہ اسکولوں کے اطراف بھی آوارہ کتوں کے خوف سے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر بچے، خواتین اور بزرگ ہیں جو خوف کی وجہ سے آزادانہ نقل و حرکت سے محروم ہو رہے ہیں۔

سرینگر کے SMHS اسپتال کے اینٹی ریبیز کلینک میں ایک سال کے دوران 17,127 افراد کا علاج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صورتحال کتنی خطرناک ہو چکی ہے۔ ہزاروں ڈاگ بائٹس کے واقعات اور مسلسل بڑھتے ہوئے جانوروں کے حملے حکومتی ناکامی کی کھلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک خوفزدہ خاندان، زخمی بچہ یا پریشان ماں موجود ہے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود جموں و کشمیر میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر مؤثر، منظم اور فوری کارروائی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر انتظامیہ کب جاگے گی؟ کیا کسی بڑے سانحے کا انتظار کیا جا رہا ہے؟

جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک جامع پالیسی کے تحت آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے، ویکسینیشن، شیلٹر ہومز، ویسٹ مینجمنٹ اور شہری تحفظ کے مؤثر اقدامات کرے۔

یہ مسئلہ اب سیاسی بحث نہیں بلکہ عوامی سلامتی کا سوال بن چکا ہے۔ اگر حکومت اب بھی خاموش رہی تو یہ خاموشی انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقِ تحفظ سے غفلت تصور کی جائے گی۔

232 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here