کھیت بچاؤ مہم: جموں و کشمیر میں مٹی بچانے کا ایک سنہری موقع

مرکزی حکومت کی جانب سے یکم جون سے 30 جون تک ملک گیر ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ شروع کرنے کا فیصلہ بروقت اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس مہم کا مقصد متوازن کھاد کے استعمال، مٹی کی صحت کے تحفظ، موسمی مشوروں کی فراہمی اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا ہے۔ لیکن اس مہم کی اہمیت جموں و کشمیر جیسے زرعی خطے میں کہیں زیادہ ہے، جہاں زرخیز زمینیں بڑھتے ہوئے کیمیائی کھادوں کے استعمال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں میں پیداوار بڑھانے کی دوڑ میں کیمیائی کھادوں پر انحصار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس سے وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ ہوا، لیکن اس کے منفی اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ مٹی کی قدرتی زرخیزی کم ہو رہی ہے، نامیاتی مادہ گھٹ رہا ہے، پانی کی آلودگی بڑھ رہی ہے اور کاشت کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں متوازن غذائی اجزاء کے استعمال اور نامیاتی ذرائع کی طرف واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں اس مہم کو صرف ایک آگاہی پروگرام کے طور پر نہیں بلکہ زرعی اصلاحات کی تحریک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں قدرتی کھاد، گوبر، کمپوسٹ، سبز کھاد اور دیگر حیاتیاتی ذرائع صدیوں سے زراعت کا حصہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے جدید زرعی رجحانات کے باعث ان روایتی اور ماحول دوست طریقوں کا استعمال کم ہوتا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان وسائل کو دوبارہ فروغ دیا جائے۔

ریاست میں باغبانی اور زراعت دونوں شعبوں کے لیے ضروری ہے کہ مٹی کے ٹیسٹ کی بنیاد پر کھادوں کا استعمال کیا جائے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار مرحلہ وار کم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف زمین کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ حیاتیاتی اور نامیاتی کھادوں کے استعمال سے مٹی میں نامیاتی مادہ بڑھے گا، نمی برقرار رہے گی اور طویل مدت میں پیداوار زیادہ پائیدار ہوگی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ زراعت، پنچایتیں، زرعی یونیورسٹیاں اور کرشی وگیان کیندر اس مہم کو گاؤں کی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچائیں۔ اگر اس موقع سے صحیح فائدہ اٹھایا گیا تو جموں و کشمیر نہ صرف اپنی مٹی کو بچا سکے گا بلکہ پائیدار اور کم لاگت زراعت کی ایک مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔

کھیت بچانے کا مطلب صرف زمین بچانا نہیں بلکہ کسان، ماحول اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا بھی ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے یکم جون سے 30 جون تک ملک گیر ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ شروع کرنے کا فیصلہ بروقت اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس مہم کا مقصد متوازن کھاد کے استعمال، مٹی کی صحت کے تحفظ، موسمی مشوروں کی فراہمی اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا ہے۔ لیکن اس مہم کی اہمیت جموں و کشمیر جیسے زرعی خطے میں کہیں زیادہ ہے، جہاں زرخیز زمینیں بڑھتے ہوئے کیمیائی کھادوں کے استعمال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں میں پیداوار بڑھانے کی دوڑ میں کیمیائی کھادوں پر انحصار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس سے وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ ہوا، لیکن اس کے منفی اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ مٹی کی قدرتی زرخیزی کم ہو رہی ہے، نامیاتی مادہ گھٹ رہا ہے، پانی کی آلودگی بڑھ رہی ہے اور کاشت کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں متوازن غذائی اجزاء کے استعمال اور نامیاتی ذرائع کی طرف واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں اس مہم کو صرف ایک آگاہی پروگرام کے طور پر نہیں بلکہ زرعی اصلاحات کی تحریک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں قدرتی کھاد، گوبر، کمپوسٹ، سبز کھاد اور دیگر حیاتیاتی ذرائع صدیوں سے زراعت کا حصہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے جدید زرعی رجحانات کے باعث ان روایتی اور ماحول دوست طریقوں کا استعمال کم ہوتا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان وسائل کو دوبارہ فروغ دیا جائے۔

ریاست میں باغبانی اور زراعت دونوں شعبوں کے لیے ضروری ہے کہ مٹی کے ٹیسٹ کی بنیاد پر کھادوں کا استعمال کیا جائے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار مرحلہ وار کم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف زمین کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ حیاتیاتی اور نامیاتی کھادوں کے استعمال سے مٹی میں نامیاتی مادہ بڑھے گا، نمی برقرار رہے گی اور طویل مدت میں پیداوار زیادہ پائیدار ہوگی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ زراعت، پنچایتیں، زرعی یونیورسٹیاں اور کرشی وگیان کیندر اس مہم کو گاؤں کی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچائیں۔ اگر اس موقع سے صحیح فائدہ اٹھایا گیا تو جموں و کشمیر نہ صرف اپنی مٹی کو بچا سکے گا بلکہ پائیدار اور کم لاگت زراعت کی ایک مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔

کھیت بچانے کا مطلب صرف زمین بچانا نہیں بلکہ کسان، ماحول اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا بھی ہے۔

7 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here