اداریہ: عالمی بحران اور جموں و کشمیر کی غذائی سلامتی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور غذائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی ہلچل نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ دور دراز خطوں کے تنازعات بھی مقامی معیشتوں اور معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی حالیہ وارننگ اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہے کہ تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف مہنگائی کو بڑھائے گا بلکہ خوراک کی دستیابی کو بھی متاثر کرے گا، جس کا براہِ راست اثر کمزور معیشتوں پر پڑے گا۔

جموں و کشمیر جیسے خطے، جہاں بڑی حد تک غذائی اجناس بیرونی سپلائی پر منحصر ہیں، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں محض ردِعمل کافی نہیں، بلکہ پیش بندی اور جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹریٹجک فوڈ ریزرو کو مضبوط بنائے۔ گندم، چاول اور دیگر بنیادی اجناس کا مناسب ذخیرہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی زرعی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ اور کسانوں کو براہِ راست مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنا اس سمت میں مؤثر اقدامات ہو سکتے ہیں۔

دوسری اہم جہت سپلائی چین کا استحکام ہے۔ ٹرانسپورٹ میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیشِ نظر متبادل راستوں اور لاجسٹک نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

تیسرا، حکومت کو قیمتوں کے استحکام کے لیے فعال مداخلت کرنی ہوگی۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی، سبسڈی اسکیموں کا ہدفی نفاذ، اور کمزور طبقات کے لیے راشن سپورٹ جیسے اقدامات مہنگائی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

مزید برآں، علاقائی خود کفالت کو پالیسی کا مرکزی ستون بنایا جانا چاہیے۔ ڈیری، باغبانی اور مقامی خوراکی مصنوعات کو فروغ دے کر نہ صرف درآمدی انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بحران ایک وارننگ بھی ہے اور موقع بھی۔ اگر جموں و کشمیر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرے تو نہ صرف ممکنہ غذائی بحران سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مضبوط اور خود کفیل معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here