مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی خدشات کے درمیان ملک کے مختلف حصوں میں ایندھن کی فراہمی کو لے کر بعض اندیشے پیدا ہونا فطری بات ہے۔ تاہم حکومت ہند کی جانب سے حالیہ بین الوزارتی بریفنگ میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
حکومتی حکام نے واضح طور پر بتایا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ملک کی 258 ایم ایم ٹی پی اے کی ریفائننگ صلاحیت ہمیں ان ایندھنوں کے معاملے میں بڑی حد تک خود کفیل بناتی ہے۔ تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ہے۔ اسی طرح روزانہ تقریباً پچاس لاکھ ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی ملک کے پچیس ہزار سے زیادہ ڈسٹری بیوشن مراکز کے ذریعے جاری ہے۔
یہ صورتحال واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام کے گھبرانے یا ذخیرہ اندوزی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ایسے مواقع پر افواہیں اور غیر ضروری خوف بعض اوقات مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پٹرول یا ایل پی جی کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور سلنڈر کی بکنگ صرف سرکاری آن لائن ذرائع جیسے موبائل ایپس، ایس ایم ایس، واٹس ایپ یا آئی وی آر ایس کے ذریعے ہی کریں۔
جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی یہ وقت صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ خطے کی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں گھبراہٹ یا افواہوں کی بنیاد پر فیصلے کرنا مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف مستند حکومتی معلومات پر اعتماد کریں اور معمولات زندگی کو پر سکون انداز میں جاری رکھیں۔
حکومت کی تیاری اور نگرانی قابل تحسین ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ہوش مندی اختیار کی جائے، افواہوں سے دور رہا جائے اور گھبراہٹ کے بجائے اعتماد اور نظم و ضبط کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا جائے۔