وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والا بننے کی نصیحت اصولی طور پر درست اور بروقت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ سرکاری نوکریوں کے مواقع محدود ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ہر تعلیم یافتہ نوجوان کے لیے سرکاری ملازمت فراہم کرنا کسی بھی حکومت کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے زرعی شعبے، باغبانی، ماہی پروری اور شہد کی پیداوار جیسے میدانوں میں کاروباری امکانات تلاش کرنے کی بات یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف نصیحت اور تقریروں سے معاشی تبدیلی نہیں آتی۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ نوجوان روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بنیں تو اسے ایسی عملی پالیسیاں بھی مرتب کرنی ہوں گی جو میرٹ، تعلیم اور مہارت کو فروغ دیں۔
جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال سرکاری ملازمتوں کے نظام سے متعلق ہے۔ برسوں سے یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا ہے کہ تقرریوں کے عمل میں میرٹ کمزور اور ریزرویشن کا نظام غیر متوازن ہو چکا ہے۔ ریزرویشن کا مقصد سماجی انصاف ہوتا ہے، لیکن جب اس کا دائرہ ضرورت سے زیادہ وسیع ہو جائے تو یہ خود انصاف کے تقاضوں سے دور ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے اور اسے ایسا متوازن بنائے جو محروم طبقات کے حقوق بھی محفوظ رکھے اور قابلیت و محنت کی حوصلہ افزائی بھی کرے۔
اسی طرح تعلیم کا شعبہ بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ جدید دنیا میں علم کی نوعیت بدل چکی ہے، مگر جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں کا بڑا حصہ اب بھی پرانے نصاب اور فرسودہ طریقۂ تدریس پر قائم ہے۔ جب تک اعلیٰ معیار کی تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن نہیں ہوگی، نوجوانوں سے اختراع اور کاروباری قیادت کی توقع کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔
مزید برآں، حکومت کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو نئی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، فوڈ پروسیسنگ اور زرعی جدت جیسے شعبوں میں مہارت پیدا کیے بغیر خطے کے نوجوان عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے۔
عمر عبداللہ کی یہ بات بجا ہے کہ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ تاہم ان امکانات کو حقیقت بنانے کے لیے صرف حوصلہ افزائی نہیں بلکہ منصفانہ نظامِ ملازمت، جدید تعلیم اور نئی مہارتوں کو فروغ دینے والی جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت یہ عملی اقدامات کرے تو یقیناً جموں و کشمیر کے نوجوان نہ صرف روزگار حاصل کریں گے بلکہ نئے روزگار بھی پیدا کریں گے۔