سری نگر، 6 مارچ: کشمیر وادی میں مسلسل خشک موسم کے پیشِ نظر شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے کسانوں کے لیے ایک ہنگامی زرعی ایڈوائزری جاری کی ہے۔
کسانوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مٹی میں نمی کو محفوظ رکھنے اور فصلوں کے فوری تحفظ کے اقدامات کریں تاکہ بڑھتے درجۂ حرارت اور بارش کی کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یونیورسٹی نے وادی بھر کے کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بروقت فصلوں کے انتظام سے متعلق اقدامات اختیار کریں۔ ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے اہم مقصد فصلوں کو گرمی کے دباؤ اور مٹی کے خشک ہونے سے بچانا ہے۔ پھلوں کے باغات رکھنے والے کسانوں کے لیے سب سے اہم ہدایت یہ ہے کہ درختوں کے گرد موجود مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے لیے 4 سے 6 انچ نامیاتی ملچ جیسے دھان کا بھوسہ یا گھاس کے کترے استعمال کیے جائیں۔
شیری کشمیر زرعی یونیورسٹی کے شعبۂ زرعی موسمیات کے ماہرین نے خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ پولی تھین شیٹس جیسے غیر نامیاتی ملچ استعمال نہ کیے جائیں کیونکہ اس سے مٹی کا درجۂ حرارت بڑھ سکتا ہے اور درختوں کی جڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جن باغات میں آبپاشی کا مناسب انتظام نہیں ہے وہاں یونیورسٹی نے مشورہ دیا ہے کہ کھاد کے استعمال کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک مٹی میں مناسب نمی دستیاب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی زمین کی زیادہ گوڈی کرنے یا بھاری ٹریکٹروں کے استعمال سے بھی گریز کرنے کا کہا گیا ہے کیونکہ اس سے زمین مزید خشک ہو سکتی ہے۔
یہ ایڈوائزری کھیتوں میں اگائی جانے والی فصلوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ گندم، سرسوں اور مٹر کی کاشت کرنے والے کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور جڑی بوٹیوں کو بروقت صاف کریں تاکہ پانی کے محدود وسائل پر غیر ضروری دباؤ کم ہو۔ ان فصلوں میں یوریا کا استعمال فی کنال 2.5 کلوگرام سے زیادہ نہ کیا جائے اور یہ بھی اسی وقت کیا جائے جب زمین میں مناسب نمی موجود ہو۔
سبزیوں اور پھولوں کی کاشت، خاص طور پر ٹیولپ کی پیداوار کے لیے ماہرین نے صبح سویرے یا شام کے وقت ہلکی اور وقفے وقفے سے آبپاشی کرنے کی سفارش کی ہے۔ حساس فصلوں جیسے ٹماٹر، مرچ، شملہ مرچ اور بند گوبھی کی نرسریوں کو گرمی سے بچانے کے لیے شیڈ نیٹ یا بھوسے کی تہہ سے ڈھانپنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ باغات میں مٹی کو ہلکا سا کھرچنے سے مٹی میں موجود کیڑوں کے سنڈے اور لاروے دھوپ میں آ کر ختم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سیب کے باغات میں ایپل لیف بلاچ اور فروٹ بورر جیسے کیڑوں کی نگرانی کے لیے فی ہیکٹر 8 سے 10 فیرومون ٹریپس لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں ماہی پروری کے شعبے کے لیے بھی ہدایات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق تالابوں میں تحلیل شدہ آکسیجن کی مقدار 6 ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ برقرار رکھنا ضروری ہے جس کے لیے ایریشن سسٹم کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ مچھلی پالنے والوں کو پانی کی گہرائی 1.5 سے 2 میٹر برقرار رکھنے اور کم آکسیجن کی صورت میں مچھلیوں کو ان کے جسمانی وزن کے 1 سے 1.5 فیصد کے برابر خوراک دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بہتر صحت کے لیے مچھلیوں کو زیادہ پروٹین والے تیرنے والے دانے کے ساتھ وٹامن سی اور پروبائیوٹکس بھی دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں بروقت اور محتاط اقدامات سے کسان اپنی فصلوں اور پیداوار کو ممکنہ نقصان سے بچا سکتے ہیں۔