وادی کشمیر میں گرمی اور آبی قلت کے باوجود دھان کی منتقلی کا عمل جاری

21 جون سے قبل دھان کی شتکاری مکمل کرنے کی دوڑ، صدیوں پرانی زرعی روایت آج بھی وادی کی معیشت کا سہارا

جہانگیر گنائی

سری نگر، 12 جون: شدید گرمی اور بعض علاقوں میں آبپاشی کے پانی کی قلت کے باوجود وادی کشمیر میں دھان کی شتکاری کا سالانہ مرحلہ ’’تھیجکاڈ‘‘ پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے، جبکہ کسان 21 جون کی مقررہ مدت سے قبل منتقلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق وادی بھر میں کسان اجتماعی طور پر دھان کی بروقت شتکاری کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ ایک جانب وہ صدیوں پرانی زرعی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سکڑتے آبی وسائل جیسے چیلنجوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

تھیجکاڈ کشمیر کے زرعی کیلنڈر کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس میں نرسریوں میں تیار کی گئی دھان کی پنیری کو کھیتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ روایت وادی کی زرعی ثقافت کا بنیادی جزو ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دھان کے زیر کاشت رقبے میں کمی، پانی کی قلت اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کے باعث کشمیر کی بیرونی ریاستوں سے چاول درآمد کرنے پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

وادی کے مختلف علاقوں میں سبزہ زار نرسریاں اب مصروف زرعی سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کسان، مزدور اور خاندان کے افراد پانی سے بھرے کھیتوں میں اتر کر منظم انداز میں دھان کی پنیری لگا رہے ہیں۔

اس سال بھی مقامی کسانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں غیر مقامی مزدور شتکاری کے عمل میں شریک ہیں۔ اگرچہ کشمیر کے کئی علاقوں میں زراعت کا دارومدار اب مہاجر مزدوروں پر بڑھتا جا رہا ہے، تاہم اس مرتبہ مقامی سطح پر بھی غیر معمولی عوامی شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مردوں، خواتین اور بچوں سمیت پورے خاندان اس محنت طلب عمل میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ مقررہ وقت کے اندر شتکاری مکمل ہو سکے۔

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے لِٹر علاقے سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار کسان غلام محمد بٹ نے کہا کہ اس سال موسم نسبتاً خشک رہا ہے اور بیشتر علاقوں میں دھان کی شتکاری طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہے، اگرچہ بعض مقامات پر پانی کی قلت کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر معمولی گرمی کے باوجود کسان 21 جون سے پہلے شتکاری مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بہتر پیداوار کے لیے مقررہ مدت کے اندر پنیری لگانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

بٹ کے مطابق جن علاقوں میں آبپاشی کی سہولتیں دستیاب ہیں وہاں کئی کسانوں نے کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے غیر مقامی تربیت یافتہ مزدوروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’قابلِ کاشت زمین کا ہر ٹکڑا ہمارے لیے قیمتی ہے۔ ہم نمی مزید کم ہونے سے پہلے ہر ممکن رقبے کو زیر کاشت لانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بروقت شتکاری فصل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘

جنوبی، وسطی اور شمالی کشمیر میں ان دنوں پانی سے بھرے کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی میں کھڑے افراد کا منظر عام ہے۔ خوبصورت دیہی مناظر کے درمیان مزدوروں کی جانب سے پنیری لگانے کا منظم عمل وادی کی زرعی زندگی کی ایک قدیم اور دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔

تاہم کسانوں کے لیے تھیجکاڈ محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت بھی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے کسان غلام نبی بٹ نے کہا کہ زراعت کشمیر کی شناخت اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق تھیجکاڈ صرف دھان لگانے کا موسم نہیں بلکہ برکت، خوشحالی اور آباؤ اجداد سے وابستگی کی علامت بھی ہے، جس کی کسان خاندانوں کے لیے گہری ثقافتی اور جذباتی اہمیت ہے۔

کسانوں کے مطابق دھان کی کاشت ایک منظم اور مرحلہ وار عمل ہے۔ ابتدا میں بیج مخصوص نرسریوں، جنہیں مقامی زبان میں ’’تھیجوان‘‘ کہا جاتا ہے، میں بوئے جاتے ہیں۔ تقریباً 40 روز بعد پنیری مطلوبہ قد تک پہنچ جاتی ہے اور اسے کھیتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس دوران مرکزی کھیتوں کو ہل چلا کر ہموار کیا جاتا ہے اور نامیاتی کھاد سے زرخیز بنایا جاتا ہے۔

تاہم اس سال شتکاری کا موسم بعض علاقوں میں پانی کی قلت کے باعث تشویش کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔ ندی نالوں، نہروں اور دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے سے آبپاشی کے متعدد نظام متاثر ہوئے ہیں اور بعض اسکیمیں جزوی یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں۔

پلوامہ کے کھریو علاقے کے گاؤں شار کے رہائشیوں نے بتایا کہ آبپاشی کے پانی کی عدم دستیابی کے باعث وہ دھان کی کاشت نہیں کر سکے۔ متبادل کے طور پر کئی کسان مکئی، مونگ اور دیگر دالوں کی کاشت کی طرف منتقل ہو گئے ہیں، جنہیں نسبتاً کم پانی درکار ہوتا ہے۔

محکمہ زراعت کے ماہرین اور حکام بھی پانی کی کمی والے علاقوں میں کسانوں کو کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں، بالخصوص دالوں اور سبزیوں کی کاشت کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ نقصانات کم ہوں اور دستیاب وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں آبپاشی کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب ہے، تاہم چند مخصوص خطے اب بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل اور پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

محکمہ زراعت کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وادی میں دھان کی کاشت کے مسلسل سکڑتے رقبے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زرعی اراضی کو باغات، رہائشی کالونیوں اور تجارتی تعمیرات میں تبدیل ہونے سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی چاول کی پیداوار میں بڑی حد تک خود کفیل تھا، لیکن زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کے باعث دھان کے زیر کاشت رقبے میں نمایاں کمی آئی ہے، جس نے مقامی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق وادی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب بڑی حد تک دیگر ریاستوں سے درآمد ہونے والے چاول پر انحصار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس وقت کشمیر میں استعمال ہونے والے 65 فیصد سے زائد چاول جموں و کشمیر سے باہر سے منگوائے جاتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ انحصار ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جاری تھیجکاڈ سیزن کشمیر کی مضبوط زرعی روایات، مشکلات کے مقابلے میں کسانوں کی ثابت قدمی اور آبی وسائل و زرخیز دھان کے کھیتوں کے تحفظ کی فوری ضرورت کی یاد دہانی کراتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس زرعی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ (کے این او)

5 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here