Urdu edition - coming soon

Ziraat Times Urdu edition will be available shortly.

اگلے میزانیہ میں ممکنہ طور پر کسانوں پر توجہ مرکوز

اگلے میزانیہ میں ممکنہ طور پر کسانوں، دیہی نوکریوں اوربنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز


زراعت ٹائیمز نیوز ڈیسک

سرینگر/اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومتِ ہند اگلے مالی سال کے میزانیہ میں زمینداری اور دیہی امورات کے

شعبوں میں رقومات کو بڑھائے گی۔اس بات کا اظہار وزارتِ خزانہ کے اہلکاروں نے کیا، ایسا اس لئے کیا جارہا ہے

تاکہ دیہی علاقوں میں آئیندہ ہونے والے انتخابات سے قبل کسانوں کی حمائیت حاصل کی جاسکے۔

"اگلا میزانیہ کسانوں ، دیہی نوکریں اوربنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کریگا جبکہ مالیاتی راہوں کی ترویج کے لئے

تمام اقدامات کئے جائیں گے"وزارتِ خزانہ کے ایک سینئیراہلکار نے رائیٹرس کو بتایا۔

گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اپنے آبائی قصبے میں ایک الیکش جیتا، مگر اسکو صرف

ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا جس میں کسان آمدنی اور نوکریوں کے عدم وجود نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

2018 اور 2019 کے ابتدائی ایام میں ملک کے دل میں آٹھ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جسکے بعد 2019 میں

قومی الیکش ہونگے۔

یکم فروری کو وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی متوقع طور پر 2019/18 مالی سال جو کہ یکم اپریل سے شروع ہورہا ہے ،

کے لئے مکمل سالانہ میزانیہ پیش کرنے والے ہیں۔

زمینداری کی سالانہ ترقی میں 7۔1 فیصد گراوٹ آگئی دوسرے سہہ ماہ میں جو کہ ستمبر میں ختم ہوگیا، خاصکر کم

قیمتوں اور پیداور میں، جبکہ اقتصادی ترقی میں 3۔6 فیصد کا اضافہ ہوگیا جو کہ پچھلے سہ ماہ میں تین سال کم شرح

7۔5 فیصد بڑھی تھی۔۔

"حکومت کسانوں کی ناراضگی کو مزید برداشت نہیں کرسکتی ہے اور کوشش کریگی کہ انکی اقتصادی ترقی کو

فروغ بخشا جائیگا اور زمینداری کے سیکٹر میں مزید رقومات وقف کئے جائیں گے" اہلکار نے کہا،" یہ عوامی

مقبولیت سے زیادہ ایک حقیقت پسندانہ میزانیہ ہوگا”

جیٹلی نے اشارہ کیا ہے کہ اسکی ترجیح ہوگی کہ دیہی اور ڈھانچیاتی شعبوں کے لئے زیادہ رقومات مختص ہوں۔

عوامی میزانیہ پر نظریں

ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ مودی نے اندیہ دیا ہے کہ وہ 5۔7میزانیہ کا نشانہ حاصل کرنا پسند کریگا، دیہی

علاقوں پر توجہ مرکوز کریگا۔ مودی کے آنے کے بعد، گجرات میں بڑی مشکل سے جیت حاصل کرنے کے

بعد،الیکش مہم شروع کرنے سے قبل اقتصادی ترقی کو 8 فیصد کریگا، ۔

مودی کے ایک ساتھی نے کہا،" اسکو ایک عوامی میزنایہ بنانے کی ہرطرح کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ساتھی نے

کارپوریٹ مانگ برائے کم شرحِ ٹیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ "اس برس کم پیداوار ہونے کی وجہ سے کسانوں کو

مختلف اعلی قیمت والے فصل فراہم کے جائیں گے، محصول کے اصلاحات ہونگے،"